جئے پور 6/مارچ(پریس ریلیز/ایس او نیوز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) راجستھان شاخہ نے آج جئے پور پنک سٹی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس منعقد کرکے ریاست کی موجودہ حکومت پر کسانوں، اقلیتوں، ایس سی /ایس ٹی اور طلباء کے تئیں غفلت برتنے کا الزام لگایا اور مطالبہ کیا کہ اسمبلی انتخابات سے قبل گہلوت سرکار نے اپنے انتخابی منشور میں مذکورہ طبقات کے ساتھ جو وعدے کئے تھے ان کو پورا کرے۔
ایس ڈی پی آئی ریاستی صدر محمد رضوان خان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت پر الزام لگایا کہ حکومت نے اپنے بجٹ میں تمام طبقات کو نظر انداز کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریاست کے کسانوں سے قرض معافی کی جو بات کہی گئی تھی اس کو فوری طور پر لاگو کیا جائے اور نہ صرف کوآپریٹو بینکوں سے لئے گئے قرض معافی کی جائے بلکہ قومی بینکوں سے بھی قرض معافی کے منصوبے بنائیں جائیں۔ کسانوں کی زراعتی مشین ، ٹراکٹروغیرہ کی خریداری کرنے کیلئے جو لون دیا جاتا ہے اس پر% 14تا18%فیصد سود لیا جاتا ہے اس کے برعکس دوسرے عیش و آرام کی سواریاں جیسے کار اور دیگر سواریوں پر صرف 6%تا 7%فیصد سود لیا جاتا ہے ۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ اس قسم کے فرق کو ہٹائے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسانوں کو آسان قرضہ دیا جائے اور فصلوں کی انشورنس کی شرائط کو آسان کرکے کسانوں کو معاوضہ فراہم کیا جائے۔ کسانوں کی پنشن کی رقم 1000روپئے سے بڑھا کر 1500روپئے فی مہینہ کیا جائے۔ فصل برآمد کو فروغ دیا جائے ۔ خراب موسم کی وجہ سے جن کے فصل کا نقصان ہوتا ہے ان کو مناسب وقت پر مناسب معاوضہ دیا جانا چاہئے ۔اس طرح بے روزگاروں کوبے روزگار وظیفہ کے بجائے روزگار مہیا کرایا جائے۔سرکاری تعلیمی اداروں کی جدید کاری کرکے مثالی تعلیم اور کوچنگ کلاسس کے میعار کو بڑھا یا جائے تاکہ طالب علموں کو روزگار کے مواقع مل سکیں۔ اسی طرح حکومت کے وعدے کے مطابق اقلیتی فلاحی اسکیموں کو پورا کرنے کیلئے تمام اقلیتوں کو یکساں بجٹ مختص کیا جائے اور اقلیتوں کے مذہبی مقامات و مدرسہ کی تعمیر و ترقی کیلئے یکساں بجٹ مختص کیا جائے۔ اردو تعلیمی اسسٹنٹ کیلئے زیر التواء اور نئے آسامیوں کی بھرتی کی عمل شروع کیا جائے اور مدرسہ بورڈ ایکٹ بنا کر اسے قانونی حیثیت دی جائے۔ اقلیتی امور کیلئے الگ کیڈر بنا کر ملازمین کی بھرتی کی جائے۔ وقف ترقی کی کونسل کے ذریعے وقف جائیدادوں کی ترقی کیلئے بجٹ کا انتظام ، اقلیتوں کی تعلیم کیلئے ضلعی سطح پر طالب علموں کیلئے رہائشی اسکول ، اقلیتی اسکالر شپ کوٹہ میں اضافہ کیا جائے تاکہ تمام طلباء اس سے فائدہ اٹھاسکیں۔ مدرسے میں پڑھنے والے طلباء طالبات کو میرٹ میں پاس ہونے پر انہیں سکوٹی یوجنا میں شامل کیا جائے۔ ایس سی /ایس ٹی کو دی جانے والی میٹریکولیشن اسکالرشپ دی جاتی ہے اس میں اور آسانی پید ا کی جائے۔ صفائی پیشے میں لگے ہوئے افراد کے بچوں کی پڑھائی کیلئے 500روپئے دینے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن بجٹ میں اس کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے ۔ حکومت کو چاہئے کو اس پر سنجیدگی سے ایکشن پلان تیار کر کے اس کا فائدہ محروم طبقے کو دیا جائے۔ پریس کانفرنس میں ریاستی صدر محمد رضوان خان کے علاوہ قومی سکریٹری سیتارام کوہیوال اورمحترمہ یاسمین فاروقی، قومی ورکنگ کمیٹی رکن عمراء سلودیا، ریاستی جنرل سکریٹری اشفاق حسین، ریاستی سکریٹری ڈاکٹر شہاب الدین خان اور ایس ڈی پی آئی جئے پور ضلعی صدرخالد منصور موجود ہے۔